تحریر: فاطمہ نساء
حوزہ نیوز ایجنسی|
یہ جملہ محض ایک معنوی تعبیر نہیں، بلکہ تصوف اور قربِ الٰہی کی بلند ترین منزل کی طرف اشارہ ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ "مؤمن کا قلب عرشِ الٰہی ہے" تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ یا مکان میں محدود ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، اس کی ذات مکان سے منزّہ ہے؛ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمن کا دل اللہ کی تجلیات، اس کے نور، اس کی محبت اور اس کی معرفت کا مرکز بن جاتا ہے۔
قلب کی حقیقت
انسان کا قلب صرف گوشت کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ روحانی ادراک، فہم، عقل، اور محبت کا گہوارہ ہے۔ قرآن مجید میں بارہا "قلب" کا ذکر آیا ہے، جیسے: "اَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا" (محمد: ۲۴) کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں؟
یہاں قلب کو علم اور تدبر کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔
عرشِ الٰہی سے کیا مراد ہے؟
عرش اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، اور ربوبیت کی سب سے بڑی مخلوق ہے۔ یہ اس کی سلطنت کا تخت ہے، جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن جب قلبِ مومن کو عرش سے تشبیہ دی جاتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ جس طرح عرش اللہ کے امر اور فیصلوں کا مرکز ہے، اسی طرح مومن کا دل بھی اللہ کی رضا، اس کے احکام، اور اس کی محبت کا مستقر بن جاتا ہے۔
قلبِ مؤمن کیسے عرش بن جاتا ہے؟
جب مومن اپنے دل کو ہر قسم کی محبتوں، خواہشات، اور دنیاوی تعلقات سے پاک کر کے صرف اللہ کی محبت سے بھر دیتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی تجلیات کا مقام بن جاتا ہے۔
اس مقام تک کیسے پہنچیں؟
۱۔ تزکیۂ نفس: دل کو ریا، کبر، حسد، بغض، اور دُنیوی حرص سے پاک کرنا
۲۔ ذکر و فکر: اللہ کا کثرت سے ذکر اور اس کی عظمت پر غور و فکر
۳۔ اتباعِ سنت: رسول اللہ کی کامل پیروی
۴۔ محبتِ الٰہی: دنیا کی محبت کو دل سے نکال کر صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو جگہ دینا
۵۔ دعا و تضرع: اللہ سے دل کی صفائی اور قرب کی دعا کرنا
نتیجہ
"قلبِ مؤمن عرشِ الٰہی ہے" اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ مومن کے دل میں حلول کر جاتا ہے، بلکہ یہ کہ مومن کا دل اللہ کی معرفت، محبت، اور نور کا ایسا مرکز بن جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی صفات کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کی طرف تمام انبیاء اور اولیاء نے سفر کیا اور جس کی طرف ہر مومن کو دعوت دی گئی ہے۔









آپ کا تبصرہ